تعارف· ویڈیوز· رابطہ

Africa and colonizers

 Perhaps Africa is the continent which suffered the most on the hands of colonizers in the previous centuries. Distribution of resources fairly among the masses, whether they are mineral, agricultural or even human ones, had always been a real issue for the collective conscious of any society/civilization. We have heard many scholars saying that a society can be judged by its treatment of its poor people or low income classes or those people who have lesser access to the power structure. We can say, this is very much same for the nations across the globe. It is very clear that at any point of time in the history there are some superpowers and others who are their allies and then there are those who stay on the borders of the pages of history; the downtrodden ones, the forgotten ones. We also know that nations and civilizations don't stay always at the top slots, things keep changing for the nations just like the powerful individuals. History is just the registering agent of all the...

تصویر

کینیڈا کے شہر اونٹاریو کی اورینٹل مارکیٹ میں شام کے دھندلکے ایک خاتون داخل ہوتی ہے، نقوش سے جنوبی ایشیائی لگتی ہے۔ وہ بازار میں بظاہر کوئی خاص چیز خریدنے نہیں آئی، شاید اسی لیے گھومتے پھرتے،بوڑھے ترک دکاندار لطف الدین لطیف اوغلو کے ہاں جا رکی ہے، جس کے پاس کرنے کو ڈھیروں باتیں اور بیچنے کے لیے چیزوں کی کوئی مخصوص فہرست اور ترتیب نہیں؛ پرانی کتابیں، نئی تصویریں، ہندوستانی بیڑی ، ہوانا کے سگار، مولوی رومی کے رقص کناں درویشوں والے چغے، سلجوقی خود کی نقول، بچوں کے کھیل کود کی تلواریں اور ہاں....قہوے کا فنجان بھی حاضر رہتا۔ مقامی ترک انہیں لطف عم جان کہتے اور کبھی کبھی تو ترک قہوے کے شوقین گورے گوریاں بھی انہیں چچا بنانے آ پہنچتے....  لطف عم جان: خانم آفندی، آپ کی کیا خدمت بجا لا سکتے ہیں ہم؟ خاتون: وہ مصوری کا نمونہ دکھائیے گا لطفاً!  لطف عم جان: جی ضرور...یہ تصویر.... ہاں جی.... اسے ایک پاکستانی نژاد نوجوان نے بنایا ہے، عمر تو زیادہ نہیں ہے مگر مشق اور تخیل خوب ہیں۔ کبھی کبھار اپنی چیزیں ہمارے گوشہ مصوری میں رکھنے آتا ہے۔  خاتون: آہاں.... میں بھی پاکستان سے ہوں  لطف ع...

الوداع سید علی گیلانی

 الوداع سید من! آپ نے جبر کے سامنے ہمیشہ سینہ ہی رکھا، پشت دیکھنے کی اسے حسرت ہی رہی آپ ہمارے قافلے کے سالاروں میں سے تھے، خود میدان میں استادہ و مقیم سالار ہر صدی میں آپ جیسی دو چار نشانیاں ایمان والوں کے سینوں میں روشنی پھر سے بھڑکانے کو ربِ ذوالجلال والاکرام عطا فرماتے ہیں ملا کی اذاں اور، مجاہد کی اذاں اور...یہ مصرعہ وادی کشمیر کے کوچوں بازاروں میں آپ کی دلیل اور جذبہ، دونوں میں گندھی للکار سن کر سمجھ آیا آپ امید ، سر تا پا امید اور توکل و تیقن کی تجسیم تھے جبر میں تو یہ تاب تھی ہی نہیں، آپ کے نفسِ گرم کا سامنا منصب و ثروت کے بل پہ کوئی منافق اور نام نہاد "اپنا" بھی نہ کر سکا لکیریں، دیواریں، سرکاریں، بندوقیں اور غلاموں کی مجبوریاں...کچھ بھی آپ کے نظریہ حیات کی طاقت و صلابت کے سامنے کھڑا نہ رہ پایا بہت سے لوگ آزادی کے اس کٹھن سفر پہ چلے تھے، کئی تھک گئے، کئی دنیا کی چکاچوند سے ہار گئے اور کئی تاویل کی زلفِ تصنع صفت کے اسیر ہو گئے... پر آپ قدیم چنار کی مانند سیدھے، اونچے اور دراز کھڑے رہے حق آپ کی زبان پہ جاری تھا اور ہمہ دم اسی کا رعب لاکھوں گنا طاقتور دشمن پہ طاری تھا پا...

ہدیہ بر یومِ شہادت : کیپٹن کرنل شیر خان شہید ؒ

حکیم الامتؒ نے کہا تھا: سرِ خاکِ شہیدے برگہائے لالہ می پاشم کہ خونش با نہالِ مِلّتِ ما سازگار آمد “بیا تا گُل بیفشانیم و مے در ساغر اندازیم فلک را سقف بشگافیم و طرحِ دیگر اندازیم” اور "آوازِ دوست" والے مختار مسعود صاحب نے لکھا تھا : "میں نے تاریخ کی سب سے بڑی جنگ کو کئی برس بہت قریب سے دیکھا ہے۔ جتنی سیاہی جنگ کے بادلوں میں ہوتی ہے آپ اس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ جنگ کے اندھیرے گھپ اندھیرے ہوتے ہیں۔ لیکن جتنی تیز اور خیرہ کرنے والی سفید روشنی سخت آزمائش کے دنوں میں زندہ قوموں اور با کردار افراد کے طرزِ عمل سے پیدا ہوتی ہے آپ اس کی طرف آنکھ بھر کر بھی نہیں دیکھ سکتے۔ روشنی جب اتنی روشن ہو جائے کہ آپ اسے دیکھ بھی نہ سکیں تو اسے نور کہتے ہیں۔ ”" یہ فقیر کیا عرض کر سکتا ہے ۔۔۔آج صبح لکھا تھا: "دادا نے نام ہی کرنل شیر خان رکھا... کیپٹن اللہ کی توفیق سے خود بنے... ٹریننگ ہو یا فیصلے کا کارزار، یا عین معرکہ کا مقام... جہاں زن سے آتی آگ آر پار ہوتی ہے ــــــــــ کپتان نے اپنے دین، نام، روایت اور ان سب پہ قربان ہونے کے جذبے کو کہیں کمر ن...

آخری کھلاڑی کے لیے تالی

زندگی کے سفر میں ،جب آپ وکٹری سٹینڈ پہ نہ ہوں ،ہاتھ میں کوئی بید کی چھڑی اور چھاتی پہ تمغے نہ ہوں ،لوگ آپ کا اٹھ اٹھ کر انتظار نہ کرتے ہوں اور ناموں کی فہرستوں میں آپ کا نام آخری آخری سلاٹس پہ جگہ پائے ۔۔۔ ایسے میں آپ کی چھوٹی سی چھلانگ کے لیے تالی بجانے والے ،انگوٹھا اوپر کو اٹھا کر بیسٹ آف لک کہنے والے اور حوصلہ بڑھانے والے کم ہوتے ہیں، بہت کم ، پر یاد رہنے والے ، دل میں رہ جانے والے اور بڑے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں ، ہمارے اردگرد تلاش کرنے پہ ایسے چند ہی لوگ ملتے ہیں ، تلاش کر کے دیکھ لیں ! آج یاد آ رہا ہے، یہ انیس صد چھیانوے کا سن تھا، علی پور چٹھہ سے میٹرک کے لیے میں حافظ آباد کے علی گڑھ پائیلٹ سکول میں تھا ، یہ استادِ گرامی قدر سلیم صاحب کا پاؤں پاؤں رکھتا نو مولود ادارہ تھا ، جس کی سب سے بڑی کشش وہ خود تھے اور ہم جیسے پردیسیوں کے لیے سب سے بڑی پریشانی ہاسٹل کی رہائش تھی ۔ قصہ کوتاہ! غالباً یومِ قائد کا موقع تھا، جناح ہال میں ضلعی سطح کا ایک پروگرام تھا، جس میں ملی نغمے اور تقاریر وغیرہ کے ضلع بھر سے بچوں کے مقابلہ جات تھے ، میں گورنمنٹ ہائی سکول علی پور چٹھہ کی طرف سے ...

میرے شہاب صاحب

شیخوپورہ میرے ننھیال کے ننھیال کا شہر ہے ، اور بعد میں اس سے مٹی کا رشتہ بھی استوار ہوا ، کہ میری بڑی بیٹی وہاں دفن ہے ۔میٹرک کے بعد گریجوایشن تک کئی سال وہاں میں نے گزارے ہیں ، بے ربط اور رستے کی تلاش میں ۔ کتاب سے تعلق ویسے تو بچپن سے تھا ، لیکن یہاں آ کر لائبریری تک رسائی ہوئی، شیخوپورہ کمپنی باغ میں بڑی وسیع لائبریری ہے ، صاف ستھری پرسکون اور نتھری نکھری سی۔ انگریز بہادر کے دور کےکمپنی باغ نے اپنی وسعتوں کے وسط میں اس جزیرے کو پھول کی مثل کھلنے کی اجازت دی ہے اور اس کے لیے میں اس کا شکرگزار ہوں ۔ عجیب بات ہے کہ میں سبزے کا عاشق ہونے کے باوجود ان دنوں لائبریری کے چہار طرف پھیلے قطعات کی طرف زیادہ متوجہ نہ ہو سکا ۔ کمپنی باغ آنا اور سیدھے لائبریری ، وہاں سے واپس جاوید سندھو صاحب کے سخت ڈسپلن والے کالج میں بھاگم دوڑ جا پہنچنا۔ خیر لائبریری سے کافی کچھ استفادہ کا موقع ملا، لیکن جس شخصیت اور ان کی کتاب کا آج تذکرہ چھیڑنے چلا ہوں ، اتفاق ایسا ہے کہ وہ لائبریری میں نہ دیکھی اور نہ ایشو کروائی ، حالانکہ لائف ممبرشپ لینے کی وجہ سے ایک ہی وقت میں متعدد کتابیں ایشو کروانا اور چند دنوں م...

مارچ میں عورت مارچ

مجھے یاد پڑتا ہے کہ ابا جی بچپن لڑکپن میں ناراض ہوتے تو بعض اوقات دنوں تک وہ غصے اور میں ڈر سے بات نہ کرتا ، لیکن باجی (والدہ) ناراض ہو جاتیں تو نیند نہ آتی، معافی تلافی کر کے ہی سکون آتا ، تو بھائی ہمارے تو دل پہ عورت کا سکہ چلتا ہے، یہ موزوں والی بیبیاں بے چاری اپنے تئیں جس "جہاد فیمینزم" پہ نکلی ہیں، یہ قطعی کوئی نئی بات نہیں ، بس بات اتنی سی ہے کہ الگ طرح کی زبان میں کمپوز کی گئی یک سطری عبارتیں انہیں "عام عورت" کے طور پہ پیش کر کے ہمارے معاشرتی دھارے میں دھارے کے رخ بہتے عامی کو مزید کنفیوز اور مائل بہ "مساوات" کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ وہ دوست جو ان "مجاہدات" اور ان کے ہینڈلرز کو اس کمپین میں "جائیداد کے حق" اور "تعلیم کے موقع" جیسے "جائز نعرے" استعمال کرنے کی تلقین کر رہے ہیں، ہمیں ان کی نیت پہ قطعی کوئی شک نہیں ، البتہ یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ انہیں پوری بصیرت سے یہ جان لینا چاہیے کہ اس گروہ کا مقصد خواتین کے حقوق وغیرہ نہیں ہیں، ان کا مقصد گھر کے قلعے کو مسمار کرنا ہے، گھر نام کا یہ قلعہ ابھی تک کسی نہ کسی ...

وقت اور تحاریک اسلامی کے کارکنان

وقت کیسے گزارا جائے ـــــــ وقت کیسے کاٹا جائے ـــــــ وقت کیسے kill کیا جائے ــــــ یہ جملے داعی اور تحاریک ہائے اسلامی کے کارکنان کے منہ سے کیسے نکل سکتے ہیں ـــــــــ یہ وقت ہی تو ان کا اصل سرمایہ ہے ـــــــــ افراد سازی کے لیے ـــــــ قرآن سے تعلق جوڑنے کے لیے ــــــــــ اس میں غور و فکر اور تدبر کے لیے ــــــــ دعوت دین کے لیے ـــــــــ اقامت دین کے لیے ــــــــــــ مسلمانوں کو درپیش بڑے چھوٹے مسائل کے لیے جان کھپانے کے لیے ـــــــــــ داعی اور اقامت دین کے کسی کارکن کا دن اللہ کے رسول ﷺ کی نقل کرتے ہوئے دین کے لیے جدوجہد کرتے گزرنا چاہیے ـــــــــــ اور رات کا کچھ حصہ اپنے رب سے مناجات کرتے ہوئے ــــــــــ اسے پاس کرنے کے لیے وقت ملتا ہی کون سا ہے ــــــــــ جب کہ اسے تکبیر اولیٰ کے ساتھ نماز ادا کرنے کے لیے مسجد کی طرف جانے کی لپک لگی ہوتی ہے ــــــــــ اپنے بیمار بھائی کی عیادت کے لیے جانا ہوتا ہے ــــــــــ کسی ضرورت مند بھائی کی حاجت برآری کے لیے پہنچنا ہوتا ہے ـــــــــــ مظلوم کی نصرت اور ظالم کا ہاتھ روکنے کے لیے کوشش کرنا ہوتی ہے ـــــــــــ اپنے اہل و عیال کے لیے رزق ح...

شہباز شریف، شجرکاری اور ہم

چونکہ ہمارے اگلے متوقع وزیراعظم جناب میاں محمد شہباز شریف ہیں... تو ابھی سے ان کے استقبال کی تیاری کے سلسلہ میں پوسٹوں کا آغاز کیا جا رہا ہے... تمام احباب،خواتین و حضرات و دیگر جات جوش و خروش سے مہم میں شرکت فرمائیں 😃 تفنن برطرف... پچھلے سال علی پور چٹھہ سے وزیر آباد جانے والے رستے پر سرکار کی طرف سے شجرکاری کی گئی تھی.... آج عرصہ بعد انہیں دیکھا تو وہ جو کبھی ہوا کے جھونکے سے بھی گر جاتے تھے... آج قد آدم سے اوپر چلے گئے ہیں... سنا ہے یہ سڑک ایک نو متعین اے سی نے اپنے گاؤں کے لیے بنوائی ہے... شاید درخت بھی اسی نے لگوائے ہوں.... بہرحال جس کسی نے بھی لگوائے ہوں... بتانا یہ مقصود ہے کہ تھوڑی سی محنت دہائیوں صدیوں تک کے لیے صدقہ جاریہ اور خیر کا سبب بن جاتی ہے اگست آن پہنچا ہے، بھائی نور الہدی شاہین کی گرین ٹیم کی مہم نے سوشل میڈیا پہ سب کو شجرکاری کا شوق دلایا.... اب  بلاگر رمضان رفیق صاحب نے بھی بالخصوص اگست کے حوالے سے مہم شروع کی ہے ــــــــــــ آئیے خود کو اس خالص  خوشی کا حقدار بنائیں.....حقیقی مسرت کے حصول کا وہ تجربہ جو کروڑوں لگا کر بھ...

مجھے میرے جنگل میں جانے دو

مجھے جنگل سے یہ کہہ کر شہر لایا گیا.... کہ وہاں روشنیاں ہیں... پکے رستے ہیں.... کتابیں ہیں... ان کتابوں میں کہانیاں  ہیں... پریوں کی.....وہاں جنگل کا قانون نہیں.... عدل و انصاف کا بول بالا ہے....وہاں صاف مقطر پانی نلوں میں بہتا ہے اور  طبیب کسی بھی دکھ درد کی دوا کرنے ہر وقت حاضر و موجود ہوتے ہیں... مخالف قبیلہ آن کی آن میں میرے گھر بار اجاڑ  کے نہ رکھ پائے گا.... یہاں جنگلی جانوروں کا ہر وقت کا خوف اور گھاس پھونس کے گھروندے......  پر تم نے مجھے دیا کیا..... وہی خوف، بے امنی، اندھیرے..... میرا جنگل تم نے مجھ سے چھین لیا اور میری زندگی سے تم  نے خوشی کے وعدے پر خوشی ہی نکال پھینکی ... وہ مسرت جو نیم برہنہ، ادھ بھرے پیٹ، مگر آزاد حیات میں تھی.... اس  کے تم قاتل ہو..... تم نے مجنوں کو صحرا اور مچھلی کو پانی سے باہر نکال کر اسے رنگا رنگ نیون سائنز اور شیشے کے  ڈبوں میں بند کر کے کیا بھلا کیا...... تم نے مجھ سے میری تازہ ہوا اور قناعت کی خو چھین لی..... میری سچی مسکراہٹ  کہاں گئی.... اب تو میں نفرت اور محبت بھی خود پہ ...

آپ کیوں لکھتے ہیں؟؟

مقصدیت ادیب کے لیے بنیادی تحریک بنتی ہے یا محض اپنے اندر چھپے متن کا وفور اسے مجبور کرتا ہے، کہ وہ لکھے اور اس پہ کوئی خاص رنگ نہ چھڑکے، اس کا بازو نہ مروڑے، یہ بحث پتا نہیں کب سے ہو رہی ہے اور امید ہے، جب تک لکھا جاتا رہے گا، یہ جاری رہے گی۔مجھے تو اس مختصر اظہاریے میں بلا کم و کاست اس حوالہ سے اپنا مشاہدہ اور نکتہ نظر بیان کرنا ہے۔ بچپن سے میں نے جو کچھ پڑھا، عمرو عیار سے لے کر ایکسٹو تک، نعیم اور عبداللہ کی تگ و تاز  سے لے کر راشد منہاس شہید کی قربانی تک، مسلکی لٹریچر سے سید مودودی تک، منڈیلا سے لے کر شیخ الحدیث ذکریا کی سوانح تک، البریلویہ سے لے کر بریلویوں کے جواب تک، خوابوں کی سائنسی حقیقت سے لے کر خواب دکھاتے شفیق الرحمان تک، کیمیا گر سے لے دریائے پیڈرا کے کنارے بیٹھ کر روتی دوشیزہ تک، توفیق رفعت سے لے کر ولی اور عباس تابش سے لے کر میر تک، خروج و ارجاء اور تسنن و تجدد سے تصوف اور طریقت تک۔اس سب میں چند ہی چیزیں مشترک تھیں ، جو ہر متن کی تہ میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہوتی تھیں ۔ 1)تخلیقیت کی عطا شدہ صلاحیت کا اظہار۔مادہ خلق، جو القاء و الہام سے عبارت ہے ۔یہ سب ک...

2017... اہداف و عزائم

نئے سال کے موقع پر اکثر لوگ اپنی ذات اور زندگی کو بہتر ڈھنگ پہ لانے کے لیے خود سے کچھ وعدے کرتے ہیں اور کچھ اہداف متعین کرتے ہیں. یہ وعدے اور اہداف ذات، صحت، تعلقات، پیشہ ورانہ ...

کیا یہ صرف کارٹون ہیں؟؟

جب بچہ اس دنیا میں آتا ہے تو اس کی خوراک دودھ ہوتا ہے... وہ بھی کوئی عام دودھ نہیں... ایسا مخصوص قسم کی کمپوزیشن والا ہلکا اور پتلا سا دودھ جو بچے کو انرجی تو دیتا ہے مگر اس کے معدے پر بوجھ نہیں بنتا.... جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا جاتا ہے دودھ کی کمپوزیشن بھی بدلتی ہے... پھر آہستہ آہستہ آپ بچے کو ٹھوس غذا کی طرف لاتے ہو... پہلے بہت نرم، پھر ذرا سخت... غرض کم ازکم بچے کو اس دنیا میں موجود انواع و اقسام کے پکوان کھانے کے لئیے 4 یا 5 سال لگ جاتے ہیں... تب بھی ایک چیز پر غور کریں کہ بچہ ہر ذائقہ فورا ایکسپٹ نہیں کرتا... آہستہ آہستہ... وقت کے ساتھ ساتھ... اگر آپ بچے کو پیدائش پر ہی یا چلو ایک سال بعد کوئی انتہائی روغنی چیز مرچ مسالوں سے بھری ہوئی کوئی ایسی چیز کھلائیں گے، اور کھلاتے چلے جائیں گے تو کیا ہو گا؟ اول تو بچہ کھائے گا نہیں.... دوم، اگر کھائے گا بھی تو اس کا پیٹ خراب ہو جائے گا، طبیعت بگڑ جائے گی، معدے پر گراں گزرے گا... تین، ایسی صورت حال میں اس کی physical growth ہو پائے گی کیا؟ چار، چلو فرض کیا آپ کسی طرح قدرت کے قانون کو توڑنے میں کامیاب ہو گئے اور آپ کو دو ڈھائی سالہ بچہ انت...

صور من حیات الصحابہ اور سعید بن عامر جمحی رضی اللہ عنہ

ہمارے ننھیال کے گاؤں کی چھوٹی سی مسجد میں ایک الماری تھی... ایک دن اس میں سے پرانے مذہبی مجلے اور رسالے ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایک عربی کتاب ہاتھ لگی.... عربی کی جو تھوڑی بہت شد بد تھی... اس ...

عشق اور محبت میں فرق

عرض کچھ یوں ہے، کہ زندگی، انسان ، خدا ، زمانے اور کائنات کے باہم تعلق کی مانند محبّت بھی ایسا اسرار ہے، جسے علم کی ہر شاخ کے لوگوں نے مخصوص تناظر میں دیکھا اور جانا ہے............ اہلِ شریعت (اسلامی) کے ہاں اصل متون میں محبّت لفظ ملتا ہے.........عشق نہیں.......اور اُس کا مفہوم کامل اطاعت اور خود سپُردگی کاہے........ اہلِ طریقت یعنی راہِ سلُوک کے مسافر،جو دنیا کے ہر کلچر اور مذہب کے ماننے والے ہوتے ہیں ..........اُن کے ہاں عشق کا لفظ زیادہ مستعمل ہے....اور ظاہر ہے کہ ایشیائی زبانوں میں.......... تیسری طرف اگر اِن دونوں الفاظ کا اہلِ سُخن یعنی شعراء کے ہاں استعمال دیکھا جائے، تو پتا چلتا ہے کہ اِن کا استعمال اساتذہ تک کے ہاں قریب قریب ایک ہی معنی میں ہوتا چلا آیا ہے...........فراق کا شعر دیکھیے: ترکِ محبّت کرنے والو، کون بڑا جگ جیت لیا​ عشق سے پہلے کے دن سوچو، کون ایسا سُکھ ہوتا تھا​ اس کی یہ تقسیم میرے انتہائی محدودعلم کے مطابق اقبال سے زیادہ واضح ہونا شروع ہوئی، اور میرے خیال میں کچھ زیادہ لمبا چلی نہیں..........کیونکہ اہلِ طریقت محبّت کے مدارج گنواتے ہیں، جومحبّت...

قصہ حاجی محمد ڈوگر کا (قسط دوم)

قصہ حاجی محمد  ڈوگر کا (قسط  دوم)  چوپالوں، بیٹھکوں، ڈیروں اور اوطاقوں کے رزق میں ازل سے "قصہ"لکھ دیا گیا تھا۔قصہ، جس میں بات سے بات نکلتی ہے اور انسانی زندگیوں کے ایسے ایسے گوشے سامنے آتے ہیں ،کہ کسی کتاب میں  کہاں لکھے ہوں گے۔فی زمانہ بدلتے حالات،مقامات اور وسائل نے قصہ خوانی کے رنگ ڈھنگ اور انداز بدل کر رکھ دیے ہیں ۔ یہ قصہ جو میں بطور راوی آپ کی خدمت میں پیش کرنے جا رہا ہوں، یہ ایک استاد  اور شاگرد کی کہانی ہے ، واقعہ پہلی قسط "قصہ حاجی محمد ڈوگر ـــ ــ قسط اول" میں مذکور سیکرٹری بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور،حاجی محمد ڈوگر سے متعلق ہے، آئیے اُنہی کی زبانی سنتے ہیں : "یہ آج سے کتنے ہی برس پہلے کی بات ہے، میں بھر پور زندگی گزار رہا تھا اور کسی قسم کی پریشانی مجھے لاحق نہ تھی۔ میٹھے پھلوں کے طباق کی طرح زندگی نے اپنی تمام مٹھاس میرے سامنے لا ڈھیر کی تھی۔ ایک سرکاری تعلیمی ادارے میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ میں سوشل سرکلز میں ایک باہمت، توانا اور مستعد آدمی کے طور پر  بھی جانا جاتا تھا۔ ا یک دن میں سو کر اٹھا، تو مجھے محسوس ہوا ،...